ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل میں لاک ڈاون کی خلاف ورزی کا معاملہ؛ مسجد سے تین نمازیوں کو پولس اسٹیشن لے جانے پر عوام میں ناراضگی؛ ایس پی نے کی وضاحت

بھٹکل میں لاک ڈاون کی خلاف ورزی کا معاملہ؛ مسجد سے تین نمازیوں کو پولس اسٹیشن لے جانے پر عوام میں ناراضگی؛ ایس پی نے کی وضاحت

Tue, 21 Apr 2020 14:19:47    S.O. News Service

بھٹکل 21/اپریل (ایس او نیوز) بھٹکل میں لاک ڈاون کے دوران لاک ڈاون کی خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے مسجد میں نماز پڑھ رہے تین لوگوں کو پولس مسجد سے اُٹھاکر پولس تھانہ لے جانے کی اطلاع موصول ہوئی تھی   جس کے بعد سوشیل میڈیا پر عوام ذمہ داران کی خاموشی اور پولس کے رول پر سوالات اُٹھارہے ہیں۔واقعے کی اطلاع پھیلتے ہی بھٹکل کے عوام میں سخت ناراضگی پائی جارہی ہے  اور بالخصوص سوشیل میڈیا پر  عوام شکایت کررہے ہیں کہ بھٹکل میں پولس کی طرف سے کچھ زیادہ ہی سختی برتی جارہی ہے۔  مگراس تعلق سے ایس پی نے  وضاحت کی ہے کہ تینوں کو وارننگ دے کر رہا کیا جاچکا ہے اور پولس پر سختی برتنے کا الزام بے بنیاد ہے۔

کیا ہے معاملہ؟:   بھٹکل ہیبلے پنچایت حدود کے تینگنگونڈی عطّار  محلہ میں واقع عبدالرحیم عّطار مسجد میں پیر کو تین لوگ مغرب کی نماز پڑھ کر باہر نکل رہے تھے کہ  اچانک پولس  پہنچ  گئی اور تینوں لوگوں کو پکڑ کر پولس تھانہ لے گئی۔

اس تعلق سے معلومات فراہم کرتے ہوئے  مرکزی جماعت المسلمین تینگنگونڈی کے جنرل سکریٹری مولانا محمد اقبال بنگالی نے بتایا کہ  بھٹکل کے ذمہ داران اور تنظیم کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ہماری مساجد میں تین لوگ ہی پانچوں وقت کی نماز ادا کرتے ہیں اور تین سے زائد لوگ کبھی مسجد میں نماز کے لئے نہیں جاتے، کل پیر کو بھی  تین لوگ ہی مغرب کی نماز پڑھ کر مسجد سے باہر نکل رہے تھے  کہ اچانک پولس پہنچ گئی اور امامت کررہے نوجوان سمیت   تینوں لوگوں کو گرفتار کرلیا اور اپنے ساتھ تھانہ لے گئی۔ بعد میں  ہم نے خود بھٹکل مضافاتی پولس تھانہ پہنچ کر پولس کے اعلیٰ حکام سے بات چیت کی  اور انہیں بتایا کہ  ہم تنظیم کی ہدایات پر ہی عمل کررہے ہیں اور ہماری مسجد میں یہی تین لوگ  نماز پڑھ رہے تھے، بعد میں پولس نے تینوں کو تعلقہ اسپتال لے جاکر اُن کے ہاتھوں میں 14 دنوں کا کورنٹائن اسٹامپ لگاکر  رہا کردیا۔

کیا کہتے ہیں ایس پی ؟:  اس تعلق سے ساحل آن لائن نے ضلع کے ایس پی مسٹر شیوپرکاش دیوراج  سے فون پر رابطہ کیا اور  معاملہ اُن کے سامنے رکھا تو انہوں نے بتایا کہ مسجد  کمیٹی کی طرف سے جن لوگوں کو امام اور موذن مقرر کیا گیا ہے، وہی لوگ مسجد میں نماز پڑھ سکتے ہیں لیکن عطار مسجد میں جو امامت کررہا تھا وہ مسجد کا امام نہیں تھا۔ جب اُن کی توجہ اس جانب مبذول کرائی گئی کہ بھٹکل کی اکثر مسجدوں کے امام اور موذن اُسی علاقے میں نہیں رہتے  اور لاک ڈاون کے چلتے مسجد کمیٹی کی طرف سے مقررہ  امام اور موذن مسجد میں نہیں  پہنچ سکتے تو ایسی صورت میں کیا کرنا ہے  تو انہوں نے بتایا کہ مسجد کمیٹی  کی طرف سے مسجد کے قریبی لوگوں  میں سے ہی کسی کو مقرر کرنا چاہئے اور مقرر شدہ تین لوگوں  کو ہی مسجد میں جاکر نماز پڑھنا چاہئے۔انہوں نے بتایا کہ علاقہ کے ذمہ داروں کی مداخلت کے بعد تینوں لوگوں کوکل رات ہی ہم نے  رہا کردیا ہے۔ ایس پی کے مطابق لاک ڈاون کے چلتے ہم بھٹکل میں بالکل سختی نہیں کررہے ہیں اور پولس پر اس طرح کا الزام لگانا مناسب نہیں ہے۔


Share: